قرآنِ مجید نے انسانی گمراہی کے تین نمونوں کی نشان دہی کی ہے: شیاطین، کاہن اور شعراء۔ ان تینوں کے فکری ڈھانچے میں قدرِ مشترک یہ ہے کہ ان کے پاس معروضی حقیقت (objective reality) کی ٹھوس بنیاد موجود نہیں ہوتی۔ شیاطین خلائی وسعتوں میں کسی ادھوری بات کی سن گن لے کر اسے ایک بڑا فسانہ بنا دیتے ہیں، کاہن اور نجومی (astrologers) اسی ادھوری خبر پر مستقبل کا خیالی محل تعمیر کرتے ہیں، اور روایتی شعراء یا فکری تخیل پرست (speculative thinkers) جذبات اور مبالغے کی بنیاد پر ایک غیر حقیقی دنیا سجاتے ہیں۔ ان میں سے کسی کے پاس بھی واضح اور مربوط فکر (clear thinking) نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت نے کہانت، نجوم اور غیر معروضی توہم پرستی کی شدید مذمت کی ہے، کیونکہ یہ انسان کو حقائق کی دنیا سے کاٹ کر محض ایک خیالی اور مبالغہ آمیز دائرے میں قید کر دیتے ہیں۔
انسانی کلام اور افکار میں یہ بات ناممکن ہے کہ وہ کلی طور پر سچائی سے خالی ہوں۔ شعراء کے کلام اور فلاسفہ کے افکار میں بھی جزوی صداقت (partial truth) اور حکمت کی باتیں موجود ہوتی ہیں، جن کی تحسین خود احادیث میں بھی ملتی ہے۔ اصل خرابی کسی جزوی مشاہدے میں نہیں، بلکہ اس جزوی حقیقت کو بنیاد بنا کر ایک ہمہ گیر اور گمراہ کن نظریہ تراش لینے میں ہے۔ غیر واضح فکر کا حامل ذہن کسی ایک پہلو کو لے کر اسے پورے نظام پر منطبق کر دیتا ہے۔ عقلِ سلیم کا تقاضا یہ ہے کہ انسان جزوی سچائیوں کے فریب میں مبتلا ہو کر حقیقتِ واقعہ کو مسخ نہ کرے، بلکہ اپنے ہر تصور کو معروضی شواہد اور ٹھوس بنیادوں پر پرکھے۔
عہدِ حاضر میں اگرچہ روایتی کہانت اور درباری شاعری کا اثر کم ہو چکا ہے، مگر ان کی جگہ جدید افکار اور تحریکوں نے لے لی ہے۔ نظریۂ ارتقاء (Darwinism) کے نام پر چند نامکمل فوسلز اور قیاسی مشاہدات کو بنیاد بنا کر انسان کی پیدائش اور مقصدِ وجود کے بارے میں ایک عظیم مادہ پرستانہ نظریہ گھڑ لیا گیا۔ اسی طرح انتہا پسندانہ فیمینزم اور حقوقِ انسانی کے نام نہاد کارکنوں (activists) کے وہ دعوے ہیں جو فطرت کے ناقابلِ انکار حقائق کو پسِ پشت ڈال کر جذباتی نعروں پر تحریکیں کھڑی کرتے ہیں۔ یہ تمام جدید مظاہر درحقیقت اسی پرانی تخیل پسندی (imaginary thinking) کی نئی شکلیں ہیں، جہاں ٹھوس علمی بنیادوں کے بجائے نعروں اور خیالی قیاسات کی پیروی کی جاتی ہے، جس کا نتیجہ بالآخر انسانی اقدار کی مزید پامالی کی صورت میں نکلتا ہے۔
یہ فکری آوارگی جب سیاسی دائرے میں داخل ہوتی ہے تو اس کے نتائج اور بھی زیادہ تباہ کن ہوتے ہیں۔ دورِ حاضر میں جب ریاستوں کی جغرافیائی اور سیاسی حدود متعین ہو چکی ہیں، اس وقت زمینی حقائق کو نظر انداز کر کے علیحدگی پسندی (separatism) یا جذباتی تحریکیں چلانے والے دراصل اسی شاعرانہ تخیل میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ایسی قیادتیں عوام کو پرفریب خواب دکھا کر ریاستی طاقت سے ٹکرا دیتی ہیں، جس سے کسی مثبت مقصد کے حصول کے بجائے قومیں مزید انتشار اور بربادی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اس کی واضح تاریخی مثال برصغیر کے مسلمانوں کی تقسیم ہے، جہاں سنجیدہ اور حقیقت پسندانہ فکر کے فقدان اور جذباتی و شعری سیاست کے غلبے نے ایک مضبوط اور ہم وزن ملی وجود کو مختلف ٹکڑوں اور قومی ریاستوں میں منتشر کر کے اس کا تاریخی اور دعوتی وزن ختم کر دیا۔
کسی بھی فکر، نظریے یا تحریک کی حقانیت کا حتمی معیار اس کا عملی نتیجہ (outcome) ہے۔ اسلامی تعلیمات میں لایعنی (futile) اور غیر نتیجہ خیز امور سے اعراض کو حسنِ اسلام قرار دیا گیا ہے، جس کا اصول یہ ہے کہ جو فکر عملی زندگی میں بگاڑ اور ناکامی پیدا کرے، وہ فی نفسہ باطل ہے۔ قرآن نے شعراء کی روش کو "ہر وادی میں بھٹکنے" سے تعبیر کیا ہے، جو اصل میں فکری آوارگی (mental wandering) کا استعارہ ہے۔ برعکس اس کے، دینِ حق انسان کو جذباتیت اور تخیل پرستی کے بجائے توحید اور آخرت کی ٹھوس حقیقت پر اپنی زندگی اور فکر استوار کرنے کی دعوت دیتا ہے، تاکہ وہ محض خوابوں کے پیچھے بھاگنے کے بجائے معروضی حقائق کی دنیا میں بامقصد اور نتیجہ خیز عمل کر سکے۔
(a) The extraordinary nature of the Prophet’s discourse was so telling that even those who denied the truth could not contradict what he had to say. So, they told their people, in order to satisfy them, that he was a magician or a sorcerer and that his superb preaching was due to his being a magician or a charmer, and not to his being a prophet. Similarly, they used to say that the Qur’an was the work of a poet. The answer to this was that it was enough to compare the prophet with the magicians and poets and then see the difference between them. A world of difference would be found between them and no serious-minded person would confuse the one with the other. The basis of poetry is imagination and not facts and realities. That is why poets have flights of fancy, allowing their ideas to go hither and thither. Unlike the poets, the Prophet and his companions focussed their entire attention upon God—the greatest Reality. Their lives were ideal examples of harmony between preaching and practice. Deep knowledge of God (ma‘rifah) made them remember their Creator on all occasions. They were extremely cautious and, if they took action against anyone, it was only in self-defence. One who is not serious about the life Hereafter cannot be serious about leading a God-oriented life in this world.